سجدہ تسبیحات
سجدہ، اسلام کی عبادت کی فلسفہ میں 'بندہ اپنے رب کے قریب ترین لمحہ' کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ تکبر کی چوٹی پر سر کا، تکبر کی دور ترین جگہ پر زمین سے ٹکرانے کا یہ منفرد روحانی مقام کی تسبیح بھی، قرآن کے براہ راست حکم سے متعین کی گئی ہے۔ سورۃ اعلیٰ کی پہلی آیت 'سبح باسم ربک الأعلى' (اپنے بلند رب کے نام کی تسبیح کرو) نازل ہوئی تو حضرت پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا 'یہ اپنے سجدوں میں کرو'۔ رکوع میں 'عظیم' (بڑا) صفت کی جگہ، سجدے میں اب مقام اور وقت کی حدود سے آگے بڑھنے والی ایک تعریف، 'اعلیٰ' (سب سے بلند / ہر چیز سے اعلیٰ) صفت کو چھوڑ دیتی ہے۔
سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى
تلفظ
Sübhâne Rabbiye'l-A'lâ
ترجمہ
میں اپنے بلند رب کو ہر قسم کی کمی سے پاک کرتا ہوں۔
فقہی دلیل
حنفی مکتب فکر کے مطابق سجدے میں یہ تسبیح پڑھنا ایک مضبوط سنت ہے۔ جیسے کہ رکوع میں، اس کو کم از کم تین بار پڑھنا ضروری ہے۔ امام ابو حنیفہ کے فقہ کے مطابق، سجدے کی حالت دعا کے دروازوں میں سے ایک کھلا لمحہ ہے، لیکن فرض نمازوں کے سجدوں میں عربی میں بھی ذاتی دعا کرنا (اے میرے رب مجھے پیسہ دے، مجھے معاف کر وغیرہ) جائز نہیں سمجھا جاتا، صرف یہ مشہور تسبیح کی جاتی ہے۔