تقابلی فقہ

صبح کی نماز کا قنوت دعا

صبح کی نماز میں قنوت پڑھنے یا نہ پڑھنے کا موضوع اسلام کے فقہی تاریخ میں سب سے قدیم علمی مباحث میں سے ایک ہے۔ حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیعہ معونہ کے واقعے میں 70 حفاظ صحابہ کی شہادت کے بعد ایک مہینے تک صبح کی نمازوں میں ظالموں کے خلاف بد دعا کرنے کے لیے قنوت پڑھنے کا صحیح حدیثوں سے ثابت ہے۔ لیکن ایک مہینے کے بعد کیا حضرت نبی کریم نے اس عمل کو مکمل طور پر ترک کر دیا (حنفی/حنبلی) یا اپنی وفات تک اس پر قائم رہے (شافعی/مالکی) یہ مسئلہ فقہی اختلافات کا باعث بنا۔

اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ... (Kunut-u Nevâzil Metni)

تلفظ

Allâhümme innâ neste'înüke... [Sadece olağanüstü durumlarda Vitir Kunut'u veya özel beddua metinleri okunur]

ترجمہ

اے اللہ! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں... [عام دنوں میں صبح کی نماز میں نہیں پڑھا جاتا۔]

فقہی دلیل

حنفی مکتب فکر کے مطابق عام دنوں میں صبح کی نماز میں قنوت نہیں پڑھا جاتا۔ تاہم جب جنگ، وبائی بیماری یا بڑی مصیبت آتی ہے (قنوت نوازل کی حالت میں)، تو صرف جماعت کے ساتھ پڑھی جانے والی صبح کی نمازوں میں امام کے ذریعہ رکوع کے بعد علانیہ پڑھا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں عموماً وتر کی متن پڑھا جاتا ہے۔