رکوع تسبیحات
رکوع (جھکنا)، بندے کا اپنے خالق کے سامنے عاجزی محسوس کرنے اور جسمانی طور پر تواضع کرنے کا سب سے اہم نماز کے ارکان میں سے ایک ہے۔ قرآن کریم میں واقعہ سورۃ کے آخر میں 'فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ' (پس اپنے عظیم رب کے نام کی تسبیح کرو) آیت نازل ہونے پر، حضرت پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کو حکم دیا کہ 'یہ اپنے رکوعوں میں کرو'۔ اس کے بعد تمام اسلامی امت نے رکوع میں اس الہی حکم کی پیروی کرتے ہوئے 'عظیم' (عالی/بزرگ) نام کا ذکر کرنا ایک مشترکہ عمل بنا لیا۔ تاہم تسبیح کی تعداد، فرضیت اور الفاظ کے اضافے مختلف مذاہب کی حدیث سمجھنے کے طریقوں کے مطابق مختلف ہیں۔
سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ
تلفظ
Sübhâne Rabbiye'l-Azîm
ترجمہ
میں اپنے عظیم اور بلند رب کو ہر قسم کی کمی سے پاک کرتا ہوں۔
فقہی دلیل
حنفی مکتبہ فکر کے مطابق رکوع میں یہ تسبیح پڑھنا سنت ہے۔ کم از کم تین بار پڑھنا افضل سمجھا گیا ہے۔ طاق اعداد کے اعتبار سے پانچ یا سات بار پڑھنا بھی مستحب ہے۔ اگر امام کے پیچھے جماعت کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو تو جب امام رکوع سے اٹھے تو شخص کو اپنی تسبیح کو تین بار نہیں کہنے کے باوجود امام کی پیروی کرتے ہوئے فوراً اٹھ جانا چاہیے۔