تقابلی فقہ

افتتاح (شروع) دعا: سبحانک و وجھتُ

نماز میں افتتاح (شروع) تکبیر کے فوراً بعد، فاتحہ سورت سے پہلے پڑھی جانے والی دعا کو فقہ میں 'سنا' (تعریف) یا 'توجہ' کہا جاتا ہے۔ بندے کا اپنے خالق کے سامنے آنے کے اس پہلے لمحے میں، براہ راست کچھ مانگنے کے بجائے پہلے اس کی عظمت، کمال اور توحید کا ذکر کرنا، اسلام کی آداب کی اعلیٰ ترین تجلی ہے۔ حضرت پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز شروع کرتے ہوئے خاموشی سے کچھ پڑھتے ہوئے دیکھ کر ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) نے پوچھا: 'اے اللہ کے رسول، آپ تکبیر اور قرأت کے درمیان کیا پڑھتے ہیں؟' اس کے بعد افتتاح دعائیں امت تک پہنچی ہیں۔ تاہم حضرت عائشہ، حضرت عمر، حضرت علی اور ابن عمر جیسے مختلف صحابہ سے آنے والی آزاد افتتاح روایات نے مذاہب کے اس موضوع پر ترجیحات کو متعین کیا ہے۔

سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلٰهَ غَيْرُكَ.

تلفظ

Sübhânekellâhümme ve bi-hamdik. Ve tebârakesmük. Ve teâlâ ceddük. Ve lâ ilâhe ğayruk.

ترجمہ

اے اللہ! میں تجھے ہر قسم کی نقصانات سے پاک کرتا ہوں، اور تیری حمد کرتا ہوں۔ تیرا نام کتنا مبارک ہے۔ تیری شان، عظمت اور قدرت کتنی بلند ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔

فقہی دلیل

حنفی مکتبہ فکر نے افتتاح دعا کے طور پر حضرت عائشہ اور انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) سے روایت کردہ، حضرت عمر کی مسجد نبوی میں منبر سے جماعت کو سکھائی گئی 'سبحانک' دعا کو ترجیح دی ہے۔ ابو حنیفہ کے مطابق یہ متن، اللہ کی تعریف اور تنزیہ کے الفاظ کو سب سے مختصر انداز میں پیش کرتا ہے، اس لیے نماز شروع کرنے کے لیے سب سے افضل (بہتر) دعا ہے۔ یہ سنت دعا، تکبیر کے فوراً بعد خاموشی سے (خفہ) پڑھی جاتی ہے۔ جنازہ نمازوں میں متن میں 'و جلّ سناؤک' (تیری تعریف کتنی بلند ہے) کا اضافہ کیا جاتا ہے۔