شکر اور قناعت

اسلامی دین، مومنوں کی زندگی میں شکر اور قناعت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ شکر، اللہ کا شکر گزار ہونے کا اظہار ہے جبکہ قناعت، ہمارے پاس موجود چیزوں پر راضی رہنے اور ان کے ساتھ خوش رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ دونوں اقدار، مسلمانوں کو دنیا کی زندگی میں سکون اور توازن کے ساتھ گزارنے میں مدد دیتی ہیں۔ شکر اور قناعت، انسان کے دل کو تسکین دیتی ہیں اور اسے بڑے نعمتوں تک پہنچاتی ہیں۔ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس موضوع پر اپنی امت کو بہت سی نصیحتیں کی ہیں اور ان اقدار کی اہمیت کو احادیث کے ذریعے واضح کیا ہے۔

01

مَنْ لاَ يَشْكُرُ النَّاسَ لاَ يَشْكُرُ اللَّهَ

"انسانوں کا شکر نہ کرنے والا، اللہ کا بھی شکر نہیں کرتا۔"

صحیح بخاری، ادب 18

انسانوں کا شکر ادا کرنا، اللہ کا شکر گزار ہونے کا ایک عکس ہے۔

02

إِنَّ اللَّهَ لاَ يَرْضَى لِلْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ إِذَا جَاءَهُ الْخَيْرُ أَنْ يَحْمَدَهُ وَيَشْكُرَهُ

"اللہ، مومن بندے کو جب کوئی بھلا کام ملتا ہے تو اس کا شکر ادا کرنے اور حمد کرنے کو پسند کرتا ہے۔"

صحیح مسلم، ذکر 4

جب ہم بھلائی دیکھتے ہیں تو اللہ کا شکر ادا کرنا، اس کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

03

مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ آمِنًا فِي سِرْبِهِ مُعَافًى فِي جَسَدِهِ عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا

"تم میں سے جو شخص صبح کو امن میں، صحت مند اور اپنے روز کے کھانے کے ساتھ شروع کرتا ہے، تو گویا پوری دنیا اس کے لیے دی گئی ہے۔"

ترمذی، زہد 34

امن، صحت اور رزق، دنیا کی نعمتوں میں سب سے قیمتی ہیں۔

04

لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ

"دولت، مال کی کثرت سے نہیں ہے؛ اصل دولت دل کی دولت ہے۔"

صحیح بخاری، رقیق 15

حقیقی دولت، اندرونی سکون اور دل کی دولت ہے۔

05

انْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ

"تم میں سے نیچے والوں کی طرف دیکھو، اوپر والوں کی طرف نہ دیکھو۔"

صحیح مسلم، زہد 9

قناعت، ہمارے پاس موجود چیزوں سے خوش رہنے اور دوسروں کی چیزوں کی حسد نہ کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔