← بلاگ

فنائفللہ مقام: اپنی ذات سے گزر کر اللہ میں فنا ہونا

اسلام کا قطب نما 10 منٹ

تعارف

انسانی روح کی سب سے گہری تلاشوں میں سے ایک، وجود کے معنی کو سمجھنا ہے۔ فنائفللہ، تصوف کے اعلیٰ مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور اس کا مطلب ہے کہ انسان اپنی ذات سے گزر کر اللہ کی ذات میں فنا ہو جائے۔ یہ روحانی سفر، انسان کے نفس سے پاک ہونے اور الہی عشق سے بھرنے کے عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ فنائفللہ مقام، دل سے ہر قسم کی دنیوی خواہشات کے مٹ جانے اور صرف اللہ کی رضا کے لیے گزارے جانے والے زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔

تاریخی/دینی پس منظر

فنائفللہ کا تصور قرآن میں اور حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت میں بالواسطہ طور پر موجود ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں یوں فرمایا گیا ہے:

"کہہ دو: میری نماز، میری عبادتیں، میری زندگی اور میرا مرنا صرف عالمین کے رب اللہ کے لیے ہے۔" (الانعام 6:162)

یہ آیت ایک مومن کے تمام وجود کو اللہ کے لیے وقف کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی فرمایا:

"اللہ کی نگرانی کرو تاکہ تم اسے اپنے سامنے پا سکو؛ اللہ کو یاد کرو تاکہ وہ تمہیں یاد کرے۔"

یہ حدیث اللہ اور بندے کے درمیان قریبی تعلق کو واضح کرتی ہے اور فنائفللہ مقام تک پہنچنے کی ممکنہ حیثیت کو ظاہر کرتی ہے۔

تفصیلی فہرستیں اور عملی اقدامات

فنائفللہ مقام تک پہنچنے کے لیے کچھ دعائیں اور ذکر کیے جا سکتے ہیں۔ یہ ہیں ان میں سے کچھ:

  • "لا الہ الا اللہ" - یہ ذکر انسان کے دل کو اللہ کے سوا ہر چیز سے پاک کرنے میں مدد کرتا ہے۔
  • "سبحان اللہ و بحمدہ" - اللہ کی عظمت کو بیان کرنے اور اس کی عظمت کے سامنے اپنی چھوٹی حیثیت کو سمجھنے کی دعا ہے۔
  • "اللہُمَّ أنتَ مَقْصُودِي وَ رِضَاكَ مَطْلُوبِي" - معنی: "اے اللہ! میرا مقصد تو ہے، اور تیری رضا میری خواہش ہے۔" یہ دعا اللہ کی رضا کے لیے زندگی گزارنے کے ارادے کو مضبوط کرتی ہے۔

دعائیں اور ذکر صبح اور شام کی نمازوں کے بعد، ایک پرسکون ماحول میں، خشوع کے ساتھ پڑھی جائیں۔

علماء سے عبرتیں

تصوف کے بڑے بزرگ مولانا جلال الدین رومی فنائفللہ مقام کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:

"عشق ایک ایسا وسیع سمندر ہے کہ نہ اس کا کنارہ ہے نہ کوئی انتہا۔ اس سمندر میں غوطہ زن ہونے والے، خود کو کھو کر عشق میں فنا ہو جاتے ہیں۔"

اسی طرح، حلاج بن منصور کا "انا الحق" کا قول، اس کے اللہ میں فنا ہونے کی حالت کو بیان کرتا ہے۔ یہ قول فنائفللہ مقام تک پہنچنے کی انتہائی مثالوں میں سے ایک کے طور پر تاریخ میں محفوظ ہو چکا ہے۔

نتیجہ

فنائفللہ مقام، ہر مومن کی خواہش کی ایک چوٹی ہے۔ اس راستے میں اللہ کی رضا حاصل کرنے اور اس کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں ہمارے دلوں کو ہر قسم کی دنیوی فکر سے پاک کر کے صرف اس کی رضا پر مرکوز ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس راستے میں اٹھایا گیا ہر قدم ہمیں اس کے مزید قریب کر دے۔ آمین۔

#فنائفللہ#تصوف#روحانیت#اسلام
Similar Articles

Read Next